یورپی یونین سرحد پر تارکین اور پولیس میں آنکھ مچولی

0

برسلز: یورپی یونین داخلے کی کوشش کرنےو الے تارکین اور سلوینیا کی پولیس کے درمیان آنکھ مچولی کا سلسلہ، پولیس کروشیا سے ملحقہ 670 کلومیٹر سرحد پر تارکین پر نظر رکھنے کے لئے جدید آلات اور ڈرون استعمال کرنے لگی ہے، تو دوسری جانب تارکین بھی جدید ٹیکنالوجی کے ذریعہ اسے دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں، تاہم اس دوران ایک تارک وطن کی ٹھٹھر کر موت واقع ہوگئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق کروشیا اور سلوینیا کی سرحد 670 کلومیٹر طویل ہے، کروشیا یورپی شینگین ویزا نظام میں شامل نہیں، اس لئے وہاں سے سلوینیا داخل ہونا تارکین کی ترجیح ہوتا ہے، سلوینیا نے اس طویل سرحد کی نگرانی کے لئے نہ صرف ہزاروں اہلکار تعینات کر رکھے ہیں، بلکہ اس کے لئے ڈرونز، تھرمو گرافک کیمرے، ہیلی کاپٹرز اور کھوجی کتوں سمیت دیگر آلات کا بھی استعمال کیا جارہا ہے، انفو مائیگرینٹ ویب سائٹ کے مطابق دوسری طرف تارکین نے بھی طریقہ تبدیل کرلیا ہے، وہ اپنے فون ائر پلین موڈ پر رکھ لیتے ہیں، تاکہ ان کا پتہ نہ چل سکے، اور جی پی ایس کی مدد سے راستے کا تعین کرکے جنگل اور سنسان علاقوں میں رات کے وقت سفر کرتے ہیں۔

دن ہوتے ہی وہ چھپ جاتے ہیں، تاکہ اہلکاروں کی نظر میں نہ آئیں، دوسری طرف اس روٹ پر ایک تارک وطن نے اپنی جان کھودی ہے، بنگلہ دیشی تارک وطن کی ٹھٹھری ہوئی لاش کروشیا کی سرحد کے قریب سلوینیا کی حدود سے ملی ہے، 31 سالہ تارک وطن کی شناخت اس کے قریب سے ملنے والی دستاویز سے ہوئی، بعد ازاں بنگلہ دیشی سفارتخانہ نے بھی اس کی تصدیق کردی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.