ڈلیوری کا کام کرنے والوں کیلئے یورپی یونین نے بڑا فیصلہ کرلیا

0

برسلز: یورپی یونین کے رکن ممالک میں ڈیلیوری دینے کا کام کرنے والے ورکرز کے دن بدلنے والے ہیں، یورپی کمیشن نے رکن ممالک میں ڈیلیوری کے کام سے جڑے ہوئے 41 لاکھ سے زائد ورکرز کو کمپنیوں سے حقوق دلانے کے لئے تیاری کرلی ہے، جبکہ ان کا اسٹیٹس بھی تبدیل کیا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق انفارمیشن ٹیکنالوجی میں ترقی کے بعد ڈلیوری کا شعبہ دن بدن پھیلتا جارہا ہے، اور کرونا وبا کے بعد جب لوگوں میں باہر جانے کا رجحان کم ہوا ہے، تو ایسے میں ڈلیوری کے ذریعہ کھانا اور دوسری اشیا منگوانے کا رجحان تیزی سےبڑھا ہے، تاہم ڈلیوری رائیڈرز کو دیگر ورکرز کی طرح کسی قسم کا قانونی تحفظ اور چھٹیوں سمیت کوئی سہولت نہیں ملتی، اور انہیں سیلف ایمپلائیڈ یعنی اپنا روزگار کرنے والوں کے طور پر دیکھا جاتا ہے،اور وہ کمیشن پر کام کرنے پر مجبور ہیں، حالاں کہ یہ مختلف کمپنیوں کی مصنوعات کی ڈلیوری کررہے ہوتے ہیں، لہذا اب یورپی کمیشن نے رکن ممالک میں ڈیلیوری کے کام سے جڑے 41 لاکھ افراد کا اسٹیٹس تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس حوالے سے یورپی کمیشن جمعرات سے قانونی مسودہ پر غور شروع کررہا ہے، جس میں ڈیلیوری رائیڈرز کے حقوق کے حوالے سے اہم شقیں شامل کی جارہی ہیں۔ مجوزہ مسودے میں ایسے معیارات کا تعین کیا جائے گا، جس سے طے کیا جاسکے گا کہ کون سا ڈلیوری پلیٹ فارم ایمپلائز کے زمرے میں آتا ہے، اس میں کام کے اوقات کار اور تنخواہ کو بھی مد نظر رکھا جائے گا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.