جادوئی پل، جہاں تارکین کی قسمت بدل جاتی ہے

0

برسلز: یورپی یونین میں داخلے کی خواہش لئے تارکین کے لئے ایک پل کی دلچسپ کہانی سامنے آئی ہے، جو کسی بھی تارک وطن کی قسمت کا فیصلہ کرتا ہے، پل کے آر رہ جانے والوں کی قسمت خراب اور پار کر جانے والوں کا نصیب کھل جاتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق بیلاروس سے کسی طرح پولینڈ میں داخل ہوجانے والے تارکین جب جرمنی کا رخ کرتے ہیں، تو دونوں ملکوں کی سرحد پر واقع دریائے Oder کا پل ان کی قسمت کا فیصلہ کرتا ہے، اس حوالے سے تارکین کی خبریں دینے والی ویب سائٹ ’’Info Migrant’’ نے دلچسپ اسٹوری دی ہے، جرمن حکام کے مطابق پولینڈ کےراستے اکتوبر میں 5285 تارکین ملک میں داخل ہوئےتھے، تاہم نومبر میں ان کی تعداد کم ہوکر 2800 رہ گئی ہے، پولینڈ اور جرمنی کی سرحد کو ایک پل الگ کرتا ہے، تاہم یورپی یونین کے رکن ہونے کی حیثیت سے دونوں ملکوں کے درمیان کوئی سرحد ی رکاوٹ نہیں ہے، البتہ جرمن پولیس وہاں پل پر گاڑیوں کی چیکنگ کرتی نظر آتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق کچھ تارکین کو انسانی اسمگلر پل کے پولینڈ والے حصے میں اتار دیتے ہیں، اور انہیں پیدل پل پار کرکےجرمنی جانے کا کہتے ہیں، جبکہ کچھ تارکین گاڑیوں میں چھپ کر پل پار کرکے جرمنی داخلے کی کوشش کرتے ہیں، یہ پل ان کی قسمت کے لئے اہم سمجھا جاتا ہے، رپورٹ میں فرینکفرٹ کے رہائشی Michael Kurzwelly نے کہا کہ اگر ان سے کوئی پوچھے تو تارکین کو پل گاڑی میں چھپا کر پار کرانے کی کوشش نہیں کرنی چاہیئے۔

تارکین کو گاڑیوں کے بجائے وہ انہیں پولینڈ کے حصے میں اتار کر پیدل پل پار کرنے کو بہتر سمجھیں گے، لیکن تارکین اکثر اس قدر بدحواس ہوچکے ہوتے ہیں کہ انہیں پل پر اترنے کے بعد یہ سمجھ نہیں آتی کہ جرمنی والا حصہ کون سا ہے، اور پولینڈ والا کون سا، پھر وہ پولیس سے بھی ڈرتے ہیں کہ روک لیا تو کیا کریں گے، اس لئے وہ گاڑی میں چھپ کر جرمنی داخلے کو ترجیح دیتے ہیں۔

پولش رکن پارلیمان Tomasz Anisko نے بتایا کہ انہوں نے بارڈر کراسنگ کے حوالے سے ڈرامائی کہانیاں سنی ہیں، ایک تارک وطن نے پل پار کرکے اپنی طرف سے جرمنی داخلے کی کوشش کی، لیکن بوکھلاہٹ میں وہ پولینڈ والے حصے میں واپس آگیا، جہاں کھڑے پولش اہلکار کو جرمن سمجھتے ہوئے اس نے سیاسی پناہ کیلئے خود کو پیش کیا، جس پر پولش اہلکار نے اسے بتایا کہ وہ پولینڈ کی حدود میں ہے، اور اب وہ اسے تارکین کے کیمپ میں لے جائے گا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.