اٹلی میں نئے وائرس کے کیسز رپورٹ

0

برسلز: دنیا میں سامنے آنے والے نئے کرونا وائرس سے ایک طرف لوگ پریشان ہیں، تو دوسری جانب کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ قدرت کا تحفہ اور دنیا سے وبا کے خاتمے کی وجہ بن سکتا ہے، امریکی صدر بائیڈن اور اطالوی ماہر نے بھی کہا ہے کہ نئے وائرس سے دنیا کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے، جبکہ اٹلی میں سامنے آنے والے نئے وائرس کے مریضوں کے بارے میں بھی رپورٹ آگئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق اومیکرون نامی نئے کرونا وائرس نے گزشتہ ہفتہ دنیا کے دل ایک بار پھر ہلادئیے، افریقی ممالک پر سفری پابندیاں لگ گئیں اور یورپی ممالک نے سخت ایس او پیز نافذ کرنے شروع کردئیے، تاہم اب جیسے جیسے اس نئی کرونا قسم کی تفصیلات سامنے آرہی ہیں، کچھ ماہرین اس وائرس کو دنیا کے لئے نیک بختی کی علامت بھی قرار دینے لگے ہیں۔

اٹلی میں کیسز رپورٹ

اٹلی میں اومیکرون کرونا وائرس سے متاثرہ فرد جو جنوبی افریقہ سے واپس آیا تھا، اس کی بیوی اور دو بچوں کا ٹیسٹ بھی پازیٹوآگیا ہے، اطالوی خبرایجنسی انسا نے کمپانیا کی ریجنل حکومت کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا ہے کہ ڈاکٹروں نے چاروں متاثرہ افراد کا معائنہ کیا ہے، اور ان میں وائرس کے کچھ زیادہ اثرات سامنے نہیں آئے، جو انہیں لگنے والی ویکسین کی کامیابی کا اشارہ ہے۔

دوسری جانب وبائی امراض کے جرمن ماہر پروفیسر کارل لاٹر بوش جو ملک کے اگلے وزیر صحت بھی بن سکتے ہیں، انہوں نے کہا ہے کہ اومیکرون وائرس سے متاثرہ مریضوں میں اگر بیماری کی علامات ہلکی رہتی ہیں، جیسا کہ جنوبی افریقہ میں سامنے آرہا ہے، تو یہ وائرس کرسمس کا تحفہ بھی ثابت ہوسکتا ہے، اور یہ نیا وائرس کرونا کی وبا کے خاتمے کا آغاز ہوسکتا ہے، برطانوی اخبار ’’میل‘‘ کے مطابق جرمن ماہر کا یہ بیان جنوبی افریقہ کے ماہرین کے اس تجزیہ کے بعد سامنے آیا ہے کہ نئے وائرس سے متاثرہ مریضوں میں سر درد اور تھکاوٹ کے اثرات ہی سامنے آئے ہیں، اور اب تک اس وائرس کے مریضوں کو انتہائی نگہداشت میں داخلے کی ضرورت نہیں پڑی، نہ ہی اس سے کوئی موت ہوئی ہے، جنوبی افریقن میڈیکل ایسوسی ایشن کی سربراہ ڈاکٹر انجیلیق کوٹزی کا کہنا ہے کہ انہوں نے اب تک جن 7 مریضوں کا علاج کیا ہے، ان میں شدید تھکن، مسلز میں درد، خشک کھانسی اور گلے میں سوزش کی علامات دیکھی ہیں، جو زیادہ شدت کی نشاندہی نہیں کرتیں۔

یونیورسٹی آف ایسٹ انگلیا سے وابستہ پروفیسر پال ہنٹر نے بھی جرمن ماہر کے نظریہ سے اتفاق کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سچ ثابت ہوسکتا ہے، تاہم انہوں نے کہا کہ نئے وائرس کے معمولی اثرات کی وجہ پہلے کے وائرسز اور ویکسین سے پیدا ہونے والی قوت مدافعت بھی ہوسکتی ہے،تاہم دوسرے ماہرین کا کہنا ہے کہ نئے وائرس کے بارے میں کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے کے لئے کم ازکم دو ہفتے درکار ہوں گے،اس وقت اس وائرس سے متاثرہ مریضوں کی صحت کی حالت ہی کسی نتیجے پر پہنچنے کے بارے میں بہتر مدد کرسکے گی۔

امریکی صدر اور اطالوی ماہر کی تسلی

امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا ہے کہ نئے وائرس سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ امریکی عوام ویکسین لگوائیں، بوسٹر ڈوز لگوائی جائے، انہوں نے کہا کہ وائرس سے ہم نے سائنس اور رفتا ر سے لڑنا ہے ، نہ کہ ہم گھبراہٹ کا شکار ہوجائیں، ہم اس نئے وائرس کو بھی شکست دیں گے، دوسری طرف اٹلی کی ہائر ہیلتھ کونسل کے صدر فرانکو لوکاتلی نے بھی کہا ہے کہ اس بات کے کوئی شواہد نہیں ہیں کہ نیا کرونا وائرس زیادہ خطرناک ہے، اس لئے زیادہ پریشانی کی بات نہیں ہونی چاہئے، تاہم اس کے پھیلاو کی شرح زیادہ ہوسکتی ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.